Cosmos47.

پنجاب میں بہتر آبپاشی اور پانی کا تحفظ

پانی بچانے کا منصوبہ، کامیابی کی اصل پیمائش کھیت تک ہوگی

پنجاب کے زرعی منصوبہ PRIAT میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے، پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور موسمیاتی دباؤ کے مقابلے کی بات کی گئی ہے۔ منصوبے کے اہداف میں 800 غیر بہتر واٹر کورسز کی بحالی، 2,700 واٹر کورسز کی لائننگ، 40,000 ایکڑ پر مؤثر آبپاشی نظام، 33,000 ایکڑ کے لیے شمسی توانائی اور 1,700 کھیتوں میں پانی ذخیرہ کرنے والے تالاب شامل ہیں۔

اعداد سے آگے کی بات فیصل آباد جیسے زرعی خطے میں یہ اہداف اہم ہیں، لیکن کسی منصوبے کی اصل کامیابی صرف مکمل ہونے والے واٹر کورسز یا نصب کیے گئے سولر نظام سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ کسان کو یہ بھی محسوس ہونا چاہیے کہ پانی آخری سرے تک بہتر انداز میں پہنچ رہا ہے، موٹر کا خرچ کم ہوا ہے، اور فصل کو ضرورت کے مطابق پانی مل رہا ہے۔

عمل درآمد میں چھوٹی تفصیل، بڑا فرق واٹر کورس کی لائننگ کے ساتھ مناسب ڈیزائن، باقاعدہ دیکھ بھال اور کسانوں کی تربیت ضروری ہے۔ اگر پانی کے بہاؤ، زمین کی ساخت اور فصل کی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے تو انفراسٹرکچر بننے کے باوجود فائدہ محدود رہ سکتا ہے۔ شمسی توانائی کے نظام میں بھی معیار، مرمت اور استعمال کی واضح ذمہ داری پہلے سے طے ہونی چاہیے۔

کسان کی شمولیت ضروری ہے کھیتوں میں پانی ذخیرہ کرنے والے تالاب ہر جگہ یکساں مفید نہیں ہوں گے۔ زمین، نکاسی، فصلوں اور مقامی بارش کے حساب سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ میرے علم کے مطابق اس منصوبے کی پیش رفت، ضلع وار تکمیل اور کسانوں تک پہنچنے والے عملی فائدے کی باقاعدہ عوامی رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ یہی معلومات کسانوں اور مقامی اداروں کو بہتر سوال پوچھنے میں مدد دے گی۔

More posts by Areeba Qureshi